کعبہ کى سرپرستى

35

کعبہ مشرفہ کا دروازہ سیاہ کسوہ سے ڈھکا ہوا

کعبہ کی سرپرستی کو حجابہ بھی کہا جاتا ہے اور جو لوگ یہ ذمہ داری نبھاتے ہیں، انہیں سادن یا حاجب کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ کعبہ کو عوام سے بچاتے ہیں۔

سرپرستی کی تاریخ

جب سے کعبہ کی تعمیر نبی ابراہیم اور ان کے فرزند اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھوں ہوئی، اس وقت سے ہی سرپرستی کی تاریخ شروع ہوگئی ہے۔ یہ اسماعیل علیہ السلام کے ذمہ تھی، جنہوں نے بیت اللہ الحرام کے پڑوس میں قیام کیا اور اس کی خدمت کرتے رہے۔

تاریخ میں سرپرستی کی منتقلی

  • سرپرستی اسماعیل سے منتقل ہوکر ان کی اولادوں میں ایک عرصہ تک رہی۔

  • اس پر قبیلہ جرہم نے قبضہ کیا، پھر خزاعہ نے، یہاں تک کہ اس کی بازیابی نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چوتھے جد امجد قصی بن کلاب نے کی۔

  • ان کے بعد ان کے سب سے بڑے لڑکے عبد الدار کے ذمہ آئی۔

  • قصی کی نسل سے عبد الدار کی اولادوں نے کعبہ کی سرپرستی سنبھالی اور زمانہ جاہلیت پھر زمانہ اسلام میں عبد الدار کی اولادوں میں یہ باقی رہی۔

  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سرپرستی عبد الدار کی اولادوں میں سے عثمان بن طلحہ کے ذمہ تھی۔

  • عثمان کی وفات ہوگئی اور انہوں نے کوئی نسل نہیں چھوڑی، اس لیے یہ سرپرستی ان کے چچازاد بھائی شیبہ بن عثمان کو منتقل ہوگئی اور آج تک انہی کی اولادوں میں چلی آرہی ہے۔

اسلام میں سرپرستی

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا، تو آپ نے کعبہ کی چابی عثمان بن طلحہ سے لی اور کعبہ میں داخل ہوئے، پھر اسے بتوں سے پاک کیا۔ اس کے بعد چابی عثمان بن طلحہ کو یہ کہتے ہوئے واپس کردی: "اے ابو طلحہ کی اولادو! تم اس ذمہ داری کو ہمیشہ ہمیش کے لیے لے لو، یہ تم سے کافر ہی چھینیں گے"، آپ نے یہ یقین دہانی کرادی کہ یہ سرپرستی ان کی ذریت میں باقی رہے گی۔

آج کعبہ کی سرپرستی

موجودہ دور میں عمر کے لحاظ سے سب سے بزرگ سادن کے پاس کعبہ کی چابی ہوتی ہے، وہ اسے کھولنے اور اندر سے اس کے دھلنے کی نگرانی کرتے ہیں۔ کعبہ کو سرپرستوں، ولی امر، شہزادوں اور معزز مہمانوں کی موجودگی میں سال میں دو مرتبہ دھویا جاتا ہے۔ سادن اول دیگر سرپرستوں کو کعبہ کھولنے کے وقت کی اطلاع دیتا ہے، تاکہ اس عظیم کام میں ان کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔
سرپرستی محض منصبی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ یہ عظیم اعزاز ہے، جس کی پرانی تاریخ ہے اور اس کا سلسلہ انبیاء علیہم السلام کے زمانے تک پہنچتا ہے اور اسلامی ورثے کے ایک حصے کے طور پر آج تک جاری ہے۔

سائٹ کا مواد آخری تازہ کاری 10/08/2025 - 4:40 م سعودی عرب کا وقت

کیا یہ صفحہ آپ کے لیے مفید تھا؟

0% صارفین نے ہاں کہا اور تبصروں کی تعداد 0