عمرہ کا طریقہ

246

عمرہ کا طریقہ 

 ویڈیو کا تحریری نسخہ

ایسے جذبات جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتا ، وہی جانتا ہے جو انہیں جیتا ہے ۔

سبحان اللہ .... شوق کی ہوائیں کتنی خوش گوار  ہیں جب اللہ کے پرانے گھر کے مناظر انہیں دو آتشہ کرتے ہیں ۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے: " حج اور عمرے کو اللہ تعالی کے لیے پورا کرو "

عمرہ کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ عمرہ سے پہلے بغل اور زیر ناف کے بال صاف کرلے، ناخن تراش لے اور جسم پر خوشبو مل لے ، ہاں مگر احرام کے کپڑوں میں خوشبو نہ لگنے دے۔

گناہوں سے پاک سفید صحیفے کی مانند محرم سفید تہبند  اور چادر  پہنتا ہے ۔

جہاں تک عورت کی بات ہے تو وہ ایسے کپڑے پہنے  جو اللہ کے گھر کے شایان شان ہوں ، زینت کا اظہار نہ کرے ۔

یہ خوب صورت سفر میقات سے شروع ہوتا ہے ۔

 مکے کے راستے میں ہر عمرہ کرنے والا اپنے  میقات سے گزرتا ہے ۔

    مکانی میقات یہ ہیں :

  • ذوالحلیفہ (ابیار علی ) مدینہ والوں کے لیے
  • جحفہ ( رابغ ) شام والوں کے لیے
  • قرن المنازل ( سیل کبیر) نجد والوں کے لیے
  • یلملم ( سعدیہ ) یمن والوں کے لیے
  • ذات عرق ۔عراق والوں کے لیے
  • یہ میقات وہاں کے رہنے والوں اور جن کا گزر وہاں سے ہو ان کے لئے ہے
  • اورمکہ والےسب سے قریبی حل (حدود حرم کے باہر) سے احرام باندھیں گے ۔

 سنت یہ ہے کہ خشکی کے راستے  سے سفر کرنے والا میقات پر رکے۔

پھر   ( لبیک اللھم عمرۃ ) کہتے ہوئے عمرہ کی نیت کرے، اور اگر اسے اندیشہ ہو کہ وہ حرم تک نہیں پہنچ پائے گا تو وہ یہ کہہ کر شرط لگا دے : (فَإِنْ حَبَسَنِي حابِسٌ فَمَحِلِّي حيثُ حَبسْتَني)   اگر مجھے کسی رکاوٹ نےروک لیا تو جہاں مجھے روک لے وہیں  میں حلال ہو جاؤں گا ۔      

جہاں تک میقات کے برابر سے گزرنے والے کی بات ہے جیسے  ہوائی  یا سمندری سفر کرنےوالا،  تو ایسے آدمی کو میقات کے پاس احرام کی نیت کرنی ہے ۔ احرام کے بغیر میقات سے آگے بڑھنا اس کے لیے جائز نہیں ۔

 جب عمرہ کرنے والا احرام باندھ لے تو ضروری ہے کہ وہ   احرام کے ممنوعات سے بچے ۔ جو اس طرح ہیں:

  1.  سر یا جسم کے بال کے کسی بھی حصے کوکاٹنا۔
  2.  ناخن تراشنا
  3.  جسم اور لباس میں خوشبو لگانا
  4.  سلا ہوا  کپڑاپہننا
  5.  سر ڈھانکنا
  6. ہم بستری    یا اس کے مقدمات
  7.  شکار  کو  مارنا ۔
  8. عورتوں کا دستانہ پہننا یا نقاب اوڑھنا
  9.  نکاح کرنا یا پیغام نکاح  دینا

ہیبت ، محبت اور تعظیم کے ساتھ عمرہ کرنے والا جب مسجدِ حرام میں داخل ہو تو سب سے پہلے اپنے دائیں پیر کو داخل کرے ، جیسا کہ صحیح سنت   میں  آیا ہے، اور داخل ہوتے ہوئے یہ دعا پڑھے : (اللَّهُمَ صَلِّ على رسولِ الله، أعوذُ باللهِ العظيمِ وبوجههِ الكريمِ وسلطانهِ القديمِ من الشيطانِ الرجيم، اللهمَ افتح لي أبوابَ رحمتِك. اللَّهُمَ صَلِّ على رسولِ الله، أعوذُ باللهِ العظيمِ وبوجههِ الكريمِ وسلطانهِ القديمِ من الشيطانِ الرجيم، اللهمَ افتح لي أبوابَ رحمتِك)                                                       اور خانہ کعبہ کو دیکھنے کے بعد تلبیہ پکارنا بند کردے، اور حجر اسود  کونے کا رخ کرے اور وہاں سے طواف کی شروعات کرے۔

سنت یہ ہے کہ دوران طواف مرد "اضطباع" کرے، یعنی اپنی چادر  کو اپنے داہنے بغل کے نیچے سےبائیں کندھے پر ڈال لے اورداہنے کندھے کو کھلا رکھے۔

پھر حجر اسود کے  برابر سے طواف  شروع کرے،  اور "اللہ اکبر "کہتے ہوئے ہاتھ سے اُس کی طرف اشارہ کرے۔

سنت  یہ ہے کہ  حجر اسو د کو چھوا اور بوسہ دیا جائے، اگر اس میں کسی کو تکلیف نہ پہنچے، 

اگر ایسا نہ کرسکے تو چھڑی یا اس جیسی چیز سے چھوئے اور اسے بوسہ دے۔

اور اگر بوسہ دینا یا چھونا ممکن نہ ہو تو  صرف اس کی طرف اشارہ  ہی کافی ہوگا، لیکن جس چیز سے اشارہ کررہا ہے اُسے بوسہ نہ دے۔

طواف کےدرست ہونے کے لیے   یہ شرط ہے کہ طواف کرنے والا شخص چھوٹی وبڑی ہر دو ناپاکی سے پاک ہو،  کیوں کہ طواف نماز کی طرح ہے، بس فرق یہ ہے کہ اس میں بات کرنے کی اجازت ہے۔

طواف کی شروعات حجرِ اسود سے کرے، اور سات چکر مکمل کرے، ساتویں چکر کا اختتام بھی حجر ِ اسود ہی کے پاس ہوگا۔       

طواف کرتے ہوئے ایک مسلمان کو چاہیے کہ  وہ صرف ذکر  واذکار اور دعا میں مشغول رہے اور  لڑائی جھگڑا و ہنسی مذاق سے  گریز کرے ۔ کیوں کہ یہ نہایت عظیم مقام ہے جس میں انسان کی لغزشیں معاف کی جاتی ہیں، جہنم سے گلو خلاصی ہوتی ہے، اور درجات بلند ہوتے ہیں۔

مردوں کے لیے سنت یہ ہے کہ  طواف کے ابتدائی تین چکروں میں حسبِ گنجائش تیز قدموں کے ساتھ چلیں،   البتہ عورتیں ایسا نہیں کریں گی۔

طواف کرتے ہوئے جب رکنِ یمانی کے سامنے پہنچے تو اگر ممکن ہو تو دائیں ہاتھ سے  صرف اس کو چھوئے اور بوسہ نہ دے ، اور یہ کہے:  (بسم الله والله أكبر) لیکن اگر اُسےچھونے میں دشواری ہوتو  چھوڑدے اور اپنا طواف جاری رکھے،  نہ تو اُس کی طرف اشارہ کرے، اور نہ ہی تکبیر کہے۔

معتمر کے لیے مسنون یہ ہے کہ وہ رکنِ یمانی اور حجر ِ اسود کے درمیان بکثرت یہ دعا پڑھے:

(رَبنا آتِنا في الدُنيا حسنةً وفي الآخرةِ حسنةً وقِنا عذابَ النار)

طواف کا ساتواں چکر پورا ہونے کے بعد معتمر اپنے داہنے کندھے کو ڈھانپ لے، اور اگر ممکن ہوتو مقامِ ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کرے ، اور اگر ممکن نہ ہوتو  پورے حرم  میں کہیں بھی  پڑھ لے،سورہ فاتحہ کے بعد  پہلی رکعت میں سورہ (قل یا ایہا الکافرون) اور دوسری رکعت  میں سورہ (قل ھو اللہ احد ) پڑھے۔

 طواف ختم کرنے کے بعدعمرہ کرنے والا مسعى کی طرف نکلے اور اس کے لیے  مستحب ہے کہ اس کی طرف جاتے ہوئے زمزم کا پانی  پیئے۔

پھر صفا پر یہ کہتے ہوئے چڑھے: "نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِه " ہم وہاں سے شروع کر رہے ہیں جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے اور یہ آیت  پڑھے: "إنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ" (البقرہ: ۱۵۸)

اسےپہلے  چکر کے شروع میں ایک مرتبہ پڑھے۔

پھر قبلہ رخ ہوکر اللہ کی حمد بیان کرے، تکبیر کہے اور خشوع وخضوع کے ساتھ دعا کرے اوریہ کہے:

"لا إلَهَ إلا اللهُ وَحْدَهَ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لا إلَهَ إلَّا اللهُ وَحْدَهُ أنْجَزَ وَعْدَهَ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ".

اس دعا کو تین بار دہرائے اور اس کے درمیان جو چاہے دعا کرے۔

پھر صفا  سے نیچے اترے اور اپنے رب کا ذکر کرتے ہوئے اور حسب استطاعت دعا کرتے ہوئے مروہ کی طرف چلے اور صرف مرد کے لیے مسنون ہے کہ وہ  دو  سبز نشانیوں کے درمیان تیز چلے۔

جب مروہ  پہنچے تو مذکورہ آیت کی تلاوت کو چھوڑ کر ویسے ہی دعا کرے جیسے صفا پر کی تھی۔

اس طرح اس نے سات چکروں میں سے ایک چکر  پورا کرلیا۔

پھر اسی کیفیت کے ساتھ صفا کی طرف واپس جائے۔

اور صفا سے مروہ  کی طرف یا مروہ سے صفا کی طرف جانا  ایک چکر شمار ہوگا۔

ایسا کرتا رہے یہاں تک کہ ساتویں چکر میں  مروہ پر چڑھ جائے۔

اور جب سعی سے فارغ ہو گا تو اس کا عمرہ پورا ہوگا۔

اب اگر مرد حلال ہونا چاہے تو اپنے پورے سر کے بال منڈوائے یا چھوٹے کرائے ۔

اور عورت اپنے پورے سر سے بالوں کو جمع کرکے انگلی کے ایک پور کے برابر اپنے بال کاٹ لے۔

اس کے ساتھ عمرہ کرنے والے  کے لیے احرام کے ممنوع کام حلال ہوجائیں گے۔

اورنبی صلى اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نے عمرہ کے بعد دو رکعت نماز پڑھی ہو۔

اے عمرہ کرنے والے! آپ دور دراز مقام سے تشریف لائے ہیں اورپریشانی جھیلی ہے،

آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں ، اس امید کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوں کہ وہ آپ سے قبول فرمالے۔

 

سائٹ کا مواد آخری تازہ کاری 10/08/2025 - 4:00 م سعودی عرب کا وقت

کیا یہ صفحہ آپ کے لیے مفید تھا؟

100% صارفین نے ہاں کہا اور تبصروں کی تعداد 0