کعبہ کا تالہ اور چابی

28
کعبہ کا تالا اور چابی چھٹی صدی ہجری کے اوائل سے
قفل ومفتاح الكعبة في عام 1023 هجري
قفل ومفتاح الكعبة في عام 1056 هجري
قفل ومفتاح الكعبة يعودان للقرن التاسع الهجري

عباسی، مملوکی، اور عثمانی ادوار میں خانۂ کعبہ کے تالے اور چابیوں کے متعلق جو تاریخی معلومات ہم تک پہونچی ان کے حوالوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان ادوار کے خلفاء اور حکمراں کعبہ کے دروازے کو بند کرنے اور کھولنے کے لیے یہ تالے اور چابیاں فراہم کرتے تھے، خاص طور پر کعبہ کی مرمت یا کسی خاص موقع پر۔ یہ چابیاں محض دروازہ بند کرنے یا کھولنے کا ذریعہ نہیں تھیں، بلکہ یہ بیت اللہ الحرام سے وابستہ احترام، دیکھ بھال، اور اعلیٰ تعظیم کی علامت بھی تھیں۔

ایک مقالہ نگار محققہ نے استنبول کے "ٹوپ کاپی" میوزیم میں محفوظ کعبہ کے تالوں اور چابیوں کا مطالعہ کیا اور ان کے مختلف نمونوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ سب سے قدیم تالا جو ملا وہ عباسی دورِ اول سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ لکڑی سے بنا ہوا تھا اور ایک پل کی شکل میں تھا۔ اس پر المیونیم اور سیسے کی تاروں کے ذریعے تحریریں نقش کی گئی تھیں۔

اس کے بعد انہوں نے ذکر کیا کہ عباسی دور میں تالے اور چابیاں لوہے سے بنائے گئی۔ اور اس دور میں ان تالوں اور چابیوں پر تحریریں سونے یا چاندی کے تاروں سے نقش کی گئی تھیں۔

مملوکی دور میں، ان تالے اور چابیوں کو بنانے میں زیادہ اہتمام دیا گیا۔ ان میں خطاطی کی سجاوٹ نمایاں تھی، اور چاندی کے ساتھ نقش و نگار کی خوبصورتی مزید نکھری۔ اس دور میں خطوط اور حروف کی خوبصورتی اور مہارت اپنی مثال آپ تھی۔

عثمانی دور میں، کعبہ کے لیے پہلا تالا بھیجنے والے عثمانی سلطان بایزید دوم تھے، جنہوں نے خلافت عثمانیہ کے قیام سے قبل یہ اقدام کیا۔ "ٹوپ کاپی" میوزیم میں سلطان بایزید دوم کے دو تالے موجود ہیں، جو لوہے سے بنے ہوئے ہیں، اور ان پر سونے سے نقش کی ہوئی تحریریں موجود ہیں، جس میں قرآنی آیات، سلطان کا نام، اور کاریگر کا نام درج ہے۔

عثمانی دور کا آخری تالا اور چابی، جسے کعبہ کے دروازے کے لیے بنایا گیا، اس کو بنانے کا حکم سلطان عبد الحمید خان نے 1309ھ دیا۔

کعبہ المشرفہ کا موجودہ تالا اور چابی

یہ تالا اور چابی سعودی عہد کے آغاز تک کعبہ کے دروازے پر موجود تھا؛ یہاں تک 1398ھ میں شاہ خالد بن عبد العزیز آل سعود رحمہ اللہ کے حکم سے اس دروازہ کو بدل دیا گیا۔ دروازے کے ساتھ تالا اور چابی بھی بدل دیا گیا۔ اور یہ وہی ہے جو فی الحال خانہ کعبہ میں موجود ہے۔

جیسا کہ شاہ خالد بن عبد العزیز آل سعود رحمہ اللہ نے خانہ کعبہ کے پرانے دروازہ کو نئے دروازہ کے ساتھ بدلنے کا اور اسی طرح تالا اور چابی کو بھی بدلنے کا حکم دیا جنہیں ان کے حکم سے تیار گیا تھا۔

سائٹ کا مواد آخری تازہ کاری 10/08/2025 - 4:39 م سعودی عرب کا وقت

کیا یہ صفحہ آپ کے لیے مفید تھا؟

0% صارفین نے ہاں کہا اور تبصروں کی تعداد 0