مسجد نبوى کى تعمیر

33

المسجد النبوي قديماً

جب سے نبی محمد صلى اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں قدم رنجا ہوئے، مسجد نبوى شریف کى داستان شروع ہوتى ہے، جو زمانے کى تبدیلیوں اور تجدد ایمان کى گواہ رہى۔ مسجد نبوى کى تعمیر ہجرت کے پہلے سال 1050 میٹر مربع کے رقبے پر کى گئى، پھر نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے سنہ 7 ہجرى میں خیبر سے واپسى کے بعد اس میں توسیع کى، جس سے اس کا رقبہ 1425 میٹر مربع تک پہنچ گیا۔

پھر خلفائے راشدین کے ہاتھوں اس کى توسیع ہوتى رہى، چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد سنہ 17 ہجرى میں اس کى توسیع کى گئى اور اس کے رقبے میں 1100 میٹر مربع کا اضافہ کیا گیا۔ اس کے بعد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سنہ 29-30 ہجرى میں 496 میٹر مربع کا اضافہ کیا۔ ولید بن عبد الملک اموى کے دور میں اسلامى تعمیر اپنى بلندى کو پہنچ گئى۔ انہوں نے سنہ 88 اور سنہ 91 ہجرى کے درمیان 2369 میٹر مربع کا اضافہ کیا اور مہدى عباسى، سلطان قایتبائى اور سلطان عبد المجید عثمانى کے ادوار میں کوششیں جارى رہیں اور ہر مرحلہ میں سیکڑوں میٹر کا اضافہ کیا گيا۔

سعودى عہد کى آمد کے ساتھ مملکت سعودى عرب کى دانشمند قیادت کے اہتمام کى وجہ سے مسجد نبوى کا خد و خال بدل گیا، اس کے حکمرانوں نے اسے اپنى توجہ اور اہتمام کا محور بنایا۔

شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ نے سنہ 1373 ہجرى میں 6024 میٹر مربع کے رقبے کے ساتھ مسجد نبوى کى پہلى توسیع کى اور یہ سفر شاہ فہد رحمہ اللہ کے عہد میں جارى رہا، جو سنہ 1405 ہجرى میں اس کى توسیع میں معیارى اچھال لائے اور مسجد کا رقبہ 98,500 میٹر مربع بن گیا۔ اس سے زائرین اور مصلیوں کى ضرورتیں پورى کرنے کے تئیں مملکت کا التزام ظاہر ہوتا ہے۔

عمارة المسجد النبوي حديثًا

یہ اہتمام صرف رقبوں کى حد تک نہیں ہے، بلکہ جمالیات اور انفراسٹرکچر کو بھى شامل ہے۔ اس لیے جدید چھتریوں کا اضافہ کیا گیا، جو مصلیوں کو دھوپ کى تمازت سے بچانے کے لیے مسجد کے صحنوں پر سایہ کرتى ہیں۔ سنٹرال اے سی سسٹم کو فروغ دیا گیا اور سبز گنبد اور محراب نبوى سمیت پرانى عمارت میں اس طرح ترمیم کى گئى کہ آج قدیم اور جدید ہم آہنگ نظر آ رہے ہیں۔ مسجد نبوى میں شدید بھیڑ کے وقت دس لاکھ سے زیادہ نمازیوں کى گنجائش ہے۔ اس طرح مسجد نبوى عالم اسلامى کے مختلف حصوں سے دلوں کو اکٹھا کرنے والا مینارہ، تاریخ کى خوشبو، حاضر کى رونق اور وسیع مستقبل بن گئى، جس میں اس مقدس مذہبى نشانى پر توجہ مبذول کى جاتى رہے گى۔

سائٹ کا مواد آخری تازہ کاری 10/08/2025 - 3:50 م سعودی عرب کا وقت

کیا یہ صفحہ آپ کے لیے مفید تھا؟

0% صارفین نے ہاں کہا اور تبصروں کی تعداد 0