کعبہ شریف کا غلاف

49

کعبہ شریف کا غلاف تبدیل کرتے ہوئے معتمرین کی موجودگی میں

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہ اللہ کی سربراہی میں مملکت سعودی عرب حرمین شریفین اور ان کے زائرین پر، اور خاص طور سے کعبہ شریف پر توجہ دیتی رہی ہے۔ چنانچہ اس نے سب سے اعلیٰ معیار پر غلاف تیار کرنے اور اس کے کپڑے کی بنائی اور سلائی کے لیے جدید ترین مشینوں اور آلات کو فراہم کیا ہے۔

اس تابناک عہد میں جن اہم ترین آلات کو وجود میں لایا گیا ہے، ان میں "تاجیما" اور "جاکارد" مشینوں کی فراہمی ہے، جو تسبیحوں، سنہری قندیلوں اور کلمات والے نقش و نگار کے ساتھ کعبہ شریف کے کپڑے تیار کرتی ہیں۔ اس کام کو خصوصی تکنیکی قومی ٹیم انجام دیتی ہے، جو قابل ہے اور اس مشین کو چلانے کی تربیت یافتہ ہے۔ اس کپڑے میں (9) ہزار میٹر ریشم کا استعمال ہوتا ہے۔ جدید مشین کا نام ہے: (TWESTING MACHINE)۔ یہ مشین پاور لوم کے شعبہ میں کعبہ شریف کے کپڑے کے لیے جدید تکنیکی طرز پر تانے کے دھاگوں پر کام کرتی ہے، یہ (12) سروں سے لیس ہے، ہر سرا ایک تانے کی ریل کو لپیٹنے کا کام کرتا ہے۔

بانی مملکت شاہ عبدالعزیز آل سعود (اللہ ان کی قبر کو گلزار کرے) کے عہد سے ہی کعبہ شریف کے غلاف کی صنعت کاری کو توجہ و اہتمام حاصل رہا ہے۔ چنانچہ اس کے لیے سنہ 1346 ہجری کو محلہ اجیاد، مکہ مکرمہ میں وزارت خزانہ عمومی کے سامنے ایک خاص گھر بنایا گیا اور یہ پہلا غلاف ہے، جو مکہ مکرمہ میں تیار کیا گیا۔

ان کے بعد ان کے نیک فرزند غلاف کعبہ تیار کرنے اور اسے بہتر کرنے پر توجہ دیتے رہے اور تین مہینے کے بعد اور بالتحدید اگست 1962ء میں پہلا غلاف نئے کارخانے میں تیار کیا گیا اور اس پر تحفہ کی درج ذیل عبارت لکھی گئی: "یہ غلاف مکہ مکرمہ میں تیار کیا گیا اور اسے کعبہ شریف کو خادم حرمین شریفین سعود بن عبدالعزیز آل سعود نے سنہ 1381 ہجری میں ہدیہ کیا، اللہ ان سے قبول کرے"۔

سنہ 1962ء میں شاہ سعود بن عبدالعزیز نے غلاف کعبہ شریف کا کارخانہ تیار کرنے کا فرمان جاری کیا اور اس وقت اس کی ذمہ داری اپنے بھائی شاہ فیصل کو دی، جنہوں نے وزیر حج و اوقاف حسین عرب کو اس کا مکلف کیا اور انہوں نے جرول میں واقع وزارت خزانہ کی عمارت کو اس کے لیے منتخب کیا۔

یہ توجہ شاہ فیصل بن عبدالعزیز، پھر شاہ خالد اور شاہ فہد رحمہم اللہ کے عہدوں میں مسلسل جاری رہی، یہاں تک کہ غلاف کعبہ کے کارخانے کو سنہ 1397 ہجری میں اس کی نئی عمارت میں منتقل کردیا گیا، جو کہ محلہ ام الجود میں واقع ہے۔ اس کارخانے کو صنعت کے جدید ترین آلات سے لیس کیا گیا اور غلاف کعبہ آج تک اپنی شاندار شکل میں تیار کیا جاتا ہے۔

خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود رحمہ اللہ نے غلاف کعبہ کے کارخانے میں الیکٹرک سسٹمز، بجلی کی مشینوں اور میکانیکل آلات کو جدید سسٹمز کے مطابق بدلنے کی منظوری دی۔ یہ اقدام کعبہ شریف کے غلاف کی صنعت کے شعبہ میں اعلیٰ ترین ترقی کے لیے ایک بدلاؤ شمار کیا جاتا ہے۔

بانی مملکت شاہ عبدالعزیز کی تکریم میں خادم حرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظہ اللہ نے 13/8/1439 ہجری بروز منگل غلاف کعبہ شریف کے کارخانے کا نام "مجمع شاہ عبدالعزیز برائے غلاف کعبہ شریف" میں بدلنے کی منظوری دی۔

اس سے اس بات کی یقین دہانی ہوتی ہے کہ مملکت سعودی عرب اپنے قیام کے دن سے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے تابناک عہد تک کعبہ شریف کے غلاف پر خاص توجہ دیتی رہی ہے۔ اس نے بیت اللہ کی خدمت کے لیے تمام تکنیکی امکانات اور انسانی وسائل کو فراہم کر دیا ہے۔

سائٹ کا مواد آخری تازہ کاری 10/08/2025 - 4:41 م سعودی عرب کا وقت

کیا یہ صفحہ آپ کے لیے مفید تھا؟

100% صارفین نے ہاں کہا اور تبصروں کی تعداد 0