مطاف

65

مطاف

مطاف: کعبہ شریف کے اردگرد صاف ستھرے سنگ مرمر سے ڈھکا سفید صحن ہے، جسے آج عربی میں بھى صحن کہا جاتا ہے، وہ مسجد حرام کا حیات و روحانیت کے ساتھ دھڑکتا ہوا دل ہے۔ اس پاک مقام میں مسلمان ہر دور دراز علاقے سے اکٹھا ہوتے ہیں، تاکہ پرشکوہ منظر میں کعبہ کا طواف کریں، جہاں اللہ کے لیے خشوع و خضوع جلوہ افروز ہوتى ہے اور روحیں طواف، رکوع اور سجدے کے درمیان ہم آہنگ ہوتى ہیں۔ یہ منظر رات و دن زمانے کى ایمانی کہانیوں کو مسلسل بیان کرتا رہتا ہے۔

مطاف کى تاریخ اور تبدیلى

شروع میں مطاف ایک محدود علاقہ تھا، جسے مکہ کے پرانے گھر گھیرے ہوئے تھے اور صرف طواف کے لیے خاص تھا، لیکن طواف کرنے والوں کى تعداد کے بڑھنے کے ساتھ مسلسل اس میں توسیعات ہوتى رہیں۔ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اس کے اردگرد پتھر لگا کر اسے ترقى دى، پھر عہد اموى میں مسلسل اس پر توجہ مبذول کى گئى۔ پہلی مرتبہ ولید بن عبد الملک کے ہاتھوں سنگ مرمر داخل کیا گیا اور عباسى اور عثمانی خلفاء کے عہدوں میں تحسین کے کام ہوتے رہے، جنہوں نے اس کے فرش کو خوبصورت بنانے کے لیے سنگ مرمر کا استعمال کیا۔

سعودى عہد میں اور باشعور سعودى قیادت کى نگرانى میں

مطاف نے بے مثال تعمیراتى اور روحانى ترقى کا مشاہدہ کیا۔ سنہ 1388 ہجرى میں مطاف میں بڑى توسیعات کى گئیں، تاکہ حج اور عمرہ کرنے والوں کى بڑھتى ہوئى تعداد کو سمو سکے۔ مطاف کے رقبے کى توسیع کى گئى اور وہ 64.8 میٹر تک پہنچ گیا، پھر سنہ 1399 ہجرى میں اس کے رقبے میں اضافہ کیا گیا اور یہ 8500 میٹر مربع ہوگیا۔ اس کے فرش کو سفید صاف سنگ مرمر سے بدلا گیا، جس کى ڈیزائننگ خصوصى طور پر اس طرح کى گئى کہ وہ سخت ترین گرمى کے وقت بھى طواف کرنے والوں کے پیروں کے نیچے ٹھنڈا رہے۔

مطاف کی تعمیر میں روحانی نشانیاں

مطاف ستونوں سے مزین تھا۔ یہ وہ ستون تھے جو ان قندیلوں کو اٹھاتے تھے جو طواف کی راتوں کو روشن رکھتی تھیں۔ یہ انفرادی کوششیں شروع زمانے سے چلی آرہی تھیں۔

سائٹ کا مواد آخری تازہ کاری 10/08/2025 - 4:42 م سعودی عرب کا وقت

کیا یہ صفحہ آپ کے لیے مفید تھا؟

0% صارفین نے ہاں کہا اور تبصروں کی تعداد 0