مسجد نبوی کی آذان گاہیں

21

مسجد نبوی کی آذان گاہیں

نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اذان  کا حکم آنے سے پہلے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کا منادى "الصلاۃ جامعۃ" کہہ کر پکارتا،  تو لوگ اکٹھا ہوتے، جب کعبہ کى طرف قبلہ پھیرا گیا، تو اذان کا حکم دیا گیا،مصطفى صلى اللہ علیہ وسلم کو اذان کى فکر دامن گیر تھى،تو بعض مسلمانوں نے نماز کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے کچھ وسائل کا ذکر کیا، کسى نے بھونپو، تو کسى نے "ناقوس کا ذکر کیا، لوگ اسى حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس عبد اللہ بن زید خزرجى رضی اللہ عنہ آئے اور آپ سے کہا: آج رات مجھے خواب آیا، ایک آدمى دو سبز کپڑے پہنے  میرے پاس سے گزرا، ایک اپنے ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوا تھا،  میں نے اس سے کہا: کیا تم اس ناقوس کو بیچوگے؟ اس نے کہا: تم اس کا کیا کروگے؟ میں نے کہا: اس سے نماز کے لیے بلاؤں گا، اس نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر طریقے کى رہنمائى نہ کروں؟ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: کہوگے: اللہ اکبر ، اللہ اکبر، یہاں تک کہ اس نے پورى اذان کہہ دى، جب انہوں  نے اس کى خبر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو دى، تو آپ نے فرمایا: یہ ان شاء  اللہ سچا خواب ہے، تم بلال کے ساتھ اٹھو اور انہیں سناؤ،  وہ اس کے ساتھ اذان دیں، کیوں کہ ان کى آواز تم سے زیادہ بلند ہے، جب بلال نے ان الفاظ کے ساتھ اذان دى،  تو عمر بن خطاب نے اسے  اپنے گھر میں سنا، وہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنى چادر گھسیٹتے ہوئے آئے ، وہ کہہ رہے تھے: اے اللہ کے نبى: اس ذات کى قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے بھى ویسا ہى خواب دیکھا ہے جیسے انہوں نے دیکھا،  نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کے لیے حمد وثنا ہے"۔ (صحیح بخارى، سنن ابى داود اور سنن کبرى از بیہقی)

مسجد نبوى میں اذان کےمینارے:

مصطفى صلى اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عہد میں مسجد نبوى میں اذان کے مینارے نہیں تھے، بلکہ مؤذن کسى اونچى چیز پر چڑھتا تھا، بلال بن رباح رضی اللہ عنہ بنی النجار کى ایک عورت کے گھر کے اوپر سے فجر کى اذان دیتے، رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مؤذن کی آواز کو جو کوئی جن و انس یا اور کوئی سنے گا تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن گواہی دے گا "۔ (صحیح بخارى)

گزشتہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ بلند جگہ سے اذان دینے کى ضرورت نے مدینہ منورہ میں مسلمانوں کو  مسجد کى چھت کے برابر جگہ سے اذان  دینے کو منتقل کرکے  پڑوس کے  سب سے بلند گھر کى چھت سے پھر مسجد نبوى کى چھت سے اذان دینے پر  آمادہ کیا، نیز اس کى اونچائى کو بڑھانے والى چیز  بنائى گئى، یہاں تک کہ مختلف اونچائیوں والے مینارے بنائے گئے۔

مسجد نبوى شریف میں میناروں کے نام اور ان کا محل وقوع:

  1. جنوب مشرقى مینارہ (مرکزى): سبز گنبد کے قریب واقع ہے اور یہ مسجد نبوى کا مشہور ترین مئذنہ (اذان کی جگہ) ہے۔

  2. شمال مشرقى مینارہ (سنجارى): مسجد  کے شمال مشرقى کونے میں واقع ہے۔

  3. شمال مغربى مینارہ (مجیدی): شمال مغربى کونے میں واقع ہے اور سلطان عبد المجید کے عہد میں اس کى تجدید کى گئى ۔

  4. جنوب مغربی مینارہ (باب السلام): جنوب مغربى کونے میں واقع ہے، جسے باب السلام مئذنہ بھى کہا جاتا ہے۔

  5. مغربى مینارہ (باب الرحمہ): مغربى جانب واقع ہے، اس کى تعمیر مسجد کى دیوار کے باہر مدرسہ محمدیہ کے قریب کى گئى ہے۔

مسجد نبوى میں اذان کے  مینارے:

مسجد نبوى میں سب سے پہلے مینارہ عمر بن عبد العزیز نے ولید بن عبد الملک  کى تعمیر کے وقت بنایا، انہوں نے مسجد  کے ہر کونے میں ایک مینارہ بنایا اور عہد عثمانى  تک مسجد  میں پانچ مینارے  باقى رہے،  عہد عثمانى میں سلطان اشرف قائتبائى نے باب السلام اور باب الرحمہ کے درمیان ایک چھوٹا اذان کا مینارہ بنایا، پھر شمال مشرقى (سنجاری) مینارہ کو ڈھا کر اس کى جگہ سلیمانى مینارہ بنایا۔

سعودى عہد میں کئى توسیعات کے دوران میناروں کى تجدید ہوئى اور مسجد کے دس مینارے ہوگئے اوران میں سے ہر ایک میں ممتاز معمارى عناصر کا  اضافہ کیا گیا۔

اذان کے میناروں کى سعودى توسیع:

  پہلى سعودى توسیع (۱۳۷۰-۱۳۷۵ہجرى) میں ۷۰ میٹر بلندى والے چار نئے مینارے بنائے گئے اور دوسرى سعودى توسیع میں ۱۰۴ میٹر بلندى والے چھ نئے میناروں کا اضافہ کیا گیا، اس طرح میناروں کى تعداد دس ہوگئى، یہ مینارے پورى توسیع میں پھیلے ہوئے ہیں بایں طور کہ نئى توسیع کے ہر کونے میں ایک مینارہ موجود ہے۔

مسجد نبوى شریف کے میناروں پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کى خاص جمالیاتى چھاپ ہے، جن میں مصنوعى لائٹنگ کا استعمال کیا گیا، جس سے شاندار تاثیر پیدا ہوتى ہے، مصنوعى لائٹنگ میناروں کو روشن کرتى اور ان کى خوبصورتى اور روحانیت کو ظاہر کرتى ہے۔  

سائٹ کا مواد آخری تازہ کاری 10/08/2025 - 3:54 م سعودی عرب کا وقت

کیا یہ صفحہ آپ کے لیے مفید تھا؟

0% صارفین نے ہاں کہا اور تبصروں کی تعداد 0